Image

شب کے چراغ درد کا ارماں نہ کر سکے

شب کے چراغ درد کا ارماں نہ کر سکے

شب کے چراغ درد کا ارماں نہ کر سکے
دراصل اپنی ذات سے پیماں نہ کر سکے

یہ اور بات گردش دوراں میں ھم رھے
نفرت کی ضد کو زینت داماں نہ کر سکے

سانسوں سے اشک چن لئے کاغز پہ پہ رکھ دئیے
خود کو رقیب وقت سے پنہاں نہ کر سکے

مجھ کو میرے خیال بھی لگتے ھیں اب عدو
پل بھر بھی درد دل کا درماں نہ کر سکے

کتنے حسین لمحے موجوںکی زد میں تھے
طوفاں کی بےحسی کا وہ ساماں نہ کر سکے

تائب ، مریض دل کا نظر سے علاج کر
یہ کام میر عہد کے لقماں نہ کر سکے

ڈی ایم تائب

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s