اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا

اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا

اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا


آواز ذرا کم ھے تھوڑی سی قریب آنا

یہ میری کہانی ھے لفظوں کی زبانی ھے
بس یاد جہاں تک ھے روداد سنانی ھے

یہ بات ھے بچپن کی جب ھوش سنبھالا تھا

وہ وقت حسیں تر تھا ھر لمحہ نرالا تھا

اک تاج فراغت کا یوں سر پہ سجا ھوتا
جو راہ چلےمل جاتا اپنا ھی بنا ھوتا

پھر وقت کی دھاروں نے وہ لمحہ دکھا ڈالا
اک شخص کو راہ چلتے دل سے ھی لگا ڈالا

اس شخص کی صحبت میں کچھ سال یوں بیت گئے
جو ھار چکےتھےسب وھی مجھ سےجیت گئے

وہ شخص بھی کہتا تھا تو بھی میرا اپنا ھے
اک خواب میں دیکھا تھا شاید وھی سپنا ھے

اس عمر کےحصے میں ھم راہ بھلا بیٹھے
منزل جسےجانا تھا اسکوبھی گنوا بیٹھے

پھرسانس ھوئی بوجھل ھرلمحہ تھا سالوں کا
اور ذھن پہ چھایا تھا اک جال سوالوں کا

پھر وقت نےکروٹ لی مجھےجینے کاشوق لگا
جینےکا بہانہ تھا بس پینے کا شوق لگا

پھر یہ بھی میں کہتا چلوں کچھ اور بھی اپنے تھے
جن کےمیرےسپنوں میں الجھےھوئے سپنے تھے

پھر ھوش ھمیں کب تھا ھمیں بھول گئے اپنے
پلکوںسے لگائےتھے جو وہ خاک ھوئے سپنے

اس حال میں بھی تائب، میں ھنس کے ھی جیتا ھوں
کوئی پوچھے تو کہہ دینا پیتا ھوں میں پیتا ھوں.

Poetry By Dm Taib

Advertisements

One comment on “اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s