راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا – ڈی ایم تائب

راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا

راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا
کچھ دل بھی بدگماں تھا آوارہ مزاج تھا،

مقتل کی ھر فصیل پہ قاتل نے لکھ دیا
موجب تیری شکست کا تیرا سماج تھا،

موسم کی بےحسی تھی کہ عالم نہ پوچھئیے
بجھتا ھوا چراغ ھوا کا محتاج تھا،

مدت کے بعد مجھکو راحت سی مل گئی
جیسے رقیب جاں کی نظر میں علاج تھا،

مانگی ھیں سب نے رو کے دعائیں بہت مگر !
نفرت کا ھر دعا میں بہت امتزاج تھا،

اہل خرد بھی چپ تھے تائب، نہ جانے کیوں؟
رھزن کے سرپہ اب بھی وفاؤں کا تاج تھا،

ڈی ایم تائب

Poetry By Dm.Taib

Advertisements

One comment on “راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا – ڈی ایم تائب

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s