سلگتے ساحلوں پہ اب کہاں اس کا نشاں ھو گا

سلگتے ساحلوں پہ اب کہاں اس کا نشاں ھو گا
خدا جانے مرا دل کس نگر ھو گا ، کہاں ھو گا،

وہ کیسے دیکھ سکتا ھے زمیں کے خاک زادوں کو
یقینن اس کی نظروں میں ابھی تو آسماں ھو گا،

ذرا سی شام ڈھلنے تک وہ میرا تھا، نہ میں اس کا
نہ سوچا تھا مرا سایا مجھی سے بد گماں ھو گا،

امیر محفل رنداں ، میرا ھر لفظ چن لینا
کہ بزم حشر میں بھی بس یہی میرا بیاں ھو گا،

قیامت سے بہت پہلے قیامت جھیل آئے ھیں
ابھی کیا ھے سزا میری ابھی کیا امتحاں ھو گا،

چلو اب گھر کو چلتے ھیں بڑی مدت ھوئی ، تائب !
خفا مجھ سےمکیں ھوں گےبہت اجڑا مکاں ھو گا،

ڈی ایم تائب ،

Dm Taib Poetry

Advertisements

اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا

اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا

اک بات بتاتا ھوں سنتی ھو جو تم جانا


آواز ذرا کم ھے تھوڑی سی قریب آنا

یہ میری کہانی ھے لفظوں کی زبانی ھے
بس یاد جہاں تک ھے روداد سنانی ھے

یہ بات ھے بچپن کی جب ھوش سنبھالا تھا

وہ وقت حسیں تر تھا ھر لمحہ نرالا تھا

اک تاج فراغت کا یوں سر پہ سجا ھوتا
جو راہ چلےمل جاتا اپنا ھی بنا ھوتا

پھر وقت کی دھاروں نے وہ لمحہ دکھا ڈالا
اک شخص کو راہ چلتے دل سے ھی لگا ڈالا

اس شخص کی صحبت میں کچھ سال یوں بیت گئے
جو ھار چکےتھےسب وھی مجھ سےجیت گئے

وہ شخص بھی کہتا تھا تو بھی میرا اپنا ھے
اک خواب میں دیکھا تھا شاید وھی سپنا ھے

اس عمر کےحصے میں ھم راہ بھلا بیٹھے
منزل جسےجانا تھا اسکوبھی گنوا بیٹھے

پھرسانس ھوئی بوجھل ھرلمحہ تھا سالوں کا
اور ذھن پہ چھایا تھا اک جال سوالوں کا

پھر وقت نےکروٹ لی مجھےجینے کاشوق لگا
جینےکا بہانہ تھا بس پینے کا شوق لگا

پھر یہ بھی میں کہتا چلوں کچھ اور بھی اپنے تھے
جن کےمیرےسپنوں میں الجھےھوئے سپنے تھے

پھر ھوش ھمیں کب تھا ھمیں بھول گئے اپنے
پلکوںسے لگائےتھے جو وہ خاک ھوئے سپنے

اس حال میں بھی تائب، میں ھنس کے ھی جیتا ھوں
کوئی پوچھے تو کہہ دینا پیتا ھوں میں پیتا ھوں.

Poetry By Dm Taib