Image

Hum Apny Darmeyaan Koi Dareedah Khuwaab Rakhty hain

My DocumentsGraphic1.psd

Advertisements
Image

Dil Kaisy Kahy Hijar Ki Bhaari Hain Ye Ratain

Graphic1

سلگتے ساحلوں پہ اب کہاں اس کا نشاں ھو گا

سلگتے ساحلوں پہ اب کہاں اس کا نشاں ھو گا
خدا جانے مرا دل کس نگر ھو گا ، کہاں ھو گا،

وہ کیسے دیکھ سکتا ھے زمیں کے خاک زادوں کو
یقینن اس کی نظروں میں ابھی تو آسماں ھو گا،

ذرا سی شام ڈھلنے تک وہ میرا تھا، نہ میں اس کا
نہ سوچا تھا مرا سایا مجھی سے بد گماں ھو گا،

امیر محفل رنداں ، میرا ھر لفظ چن لینا
کہ بزم حشر میں بھی بس یہی میرا بیاں ھو گا،

قیامت سے بہت پہلے قیامت جھیل آئے ھیں
ابھی کیا ھے سزا میری ابھی کیا امتحاں ھو گا،

چلو اب گھر کو چلتے ھیں بڑی مدت ھوئی ، تائب !
خفا مجھ سےمکیں ھوں گےبہت اجڑا مکاں ھو گا،

ڈی ایم تائب ،

Dm Taib Poetry

راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا – ڈی ایم تائب

راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا

راہ جنوں پہ کچھ تو بغاوت کا راج تھا
کچھ دل بھی بدگماں تھا آوارہ مزاج تھا،

مقتل کی ھر فصیل پہ قاتل نے لکھ دیا
موجب تیری شکست کا تیرا سماج تھا،

موسم کی بےحسی تھی کہ عالم نہ پوچھئیے
بجھتا ھوا چراغ ھوا کا محتاج تھا،

مدت کے بعد مجھکو راحت سی مل گئی
جیسے رقیب جاں کی نظر میں علاج تھا،

مانگی ھیں سب نے رو کے دعائیں بہت مگر !
نفرت کا ھر دعا میں بہت امتزاج تھا،

اہل خرد بھی چپ تھے تائب، نہ جانے کیوں؟
رھزن کے سرپہ اب بھی وفاؤں کا تاج تھا،

ڈی ایم تائب

Poetry By Dm.Taib